google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 راولپنڈی: معصوم بچوں کے سامنے باپ کا بہیمانہ قتل، اصل کردار تاحال بے نقاب نہ ہو سکے

راولپنڈی: معصوم بچوں کے سامنے باپ کا بہیمانہ قتل، اصل کردار تاحال بے نقاب نہ ہو سکے

0



راولپنڈی میں دسمبر 2025 کو پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ محمد ارشاد خان کو اس وقت سفاک اور بے رحم قاتلوں نے قتل کر دیا جب وہ اپنے معصوم بچوں کو اسکول سے واپس لے کر آ رہے تھے۔ واردات کے دوران بچوں کے سامنے ہی ان کے والد کو گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، جس کے مناظر آج بھی متاثرہ بچوں اور اہلِ خانہ کے لیے ایک نہ ختم ہونے والا صدمہ بنے ہوئے ہیں۔



واقعے کے بعد راولپنڈی پولیس نے بھرپور محنت اور پیشہ ورانہ کارروائی کرتے ہوئے ملوث ٹارگٹ کلر کو ایک پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا۔ تاہم، پولیس مقابلے کے باوجود آج تک یہ بنیادی سوال تشنۂ جواب ہے کہ محمد ارشاد خان کے قتل کا حکم کس نے دیا؟ اصل منصوبہ ساز کون تھا اور قتل کے پیچھے محرکات کیا تھے؟

ارشاد خان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایک قاتل مارا جا چکا ہے، لیکن اصل مجرم وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس قتل کی منصوبہ بندی کی اور معصوم بچوں سے ان کا باپ چھین لیا۔ متاثرہ خاندان آج بھی انصاف کا منتظر ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کے لختِ جگر کو کس نے اور کیوں مروا دیا۔متاثرین نے وزیراعلیٰ پنجاب اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس سے پرزور اپیل کی ہے کہ اس اندوہناک قتل کیس کو دوبارہ کھولا جائے، جدید تفتیشی ذرائع استعمال کرتے ہوئے اصل کرداروں کو بے نقاب کیا جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

اہلِ علاقہ اور سماجی حلقوں نے بھی اس مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اصل منصوبہ سازوں کو سزا نہ دی گئی تو یہ نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے معاشرے کے ساتھ ناانصافی ہو گی۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ انصاف کی فراہمی ہی ایسے سفاک جرائم کی روک تھام کا واحد راستہ ہے۔

متاثرہ خاندان کی نظریں اب حکومتی اداروں پر لگی ہوئی ہیں کہ آیا انہیں انصاف ملتا ہے یا یہ کیس بھی فائلوں کی نذر ہو کر رہ جاتا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !