رہبر معظم کی عظیم شہادت نے ایران کی مزاحمتی حکمت عملی کو نئی فکری بنیاد فراہم کی، علامہ شبیر حسن میثمی
personشہر اقتدار
جولائی 06, 2026
0
share
ولایت کا نظام دشمن کے دباؤ سے نہ جھکتا ہے، نہ اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کرتا ہے،شیعہ رہنماء
اسلام آباد ( سٹی رپورٹر) شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا ہے کہ رہبر معظم کی عظیم شہادت نے اسلامی جمہوریہ ایران کی مزاحمتی حکمت عملی کو نئی فکری بنیاد فراہم کی ہے۔انہوں نے کہا کہ علی خامنہ ای نے اپنی عملی زندگی سے یہ ثابت کیا کہ ظلم اور استکبار کے خلاف جدوجہد کا راستہ آسان نہیں بلکہ قربانیوں سے عبارت ہے، رہبر معظم نے یہ بھی واضح کر دیا کہ ولایت کا نظام دشمن کے دباؤ سے نہ تبدیل ہوتا ہے، نہ پیچھے ہٹتا ہے اور نہ
ہی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کرتا ہے۔ یہی حقیقی توکل، استقامت اور حکیمانہ شجاعت کی عملی تصویر ہے۔علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا کہ آپ کی مظلومانہ شہادت نے پوری دنیا کے نوجوانوں میں نئی بیداری پیدا کی ہے اور ایک ایسی وسیع تحریک کو جنم دیا ہے جو حق و باطل کی جدوجہد کو مزید مضبوطی سے آگے بڑھائے گی۔ شہید کی تاریخی اور بے مثال تشییع جنازہ اور دنیا بھر سے بیدار
ضمیروں کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک نئی فکری و مزاحمتی تحریک وجود میں آ چکی ہے، جس کا مقابلہ مغربی نظام کے لیے آسان نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ شہادت محض زندگی کے اختتام کا نام نہیں بلکہ ایک عظیم مقصد کے لیے دی جانے والی ایسی قربانی ہے جو ہمیشہ کے لیے تاریخ کے افق پر روشن ہو جاتی ہے۔ شہادت وہ مقام ہے جہاں موت فنا نہیں رہتی بلکہ بقا کا دروازہ بن جاتی
ہے اور خون صرف زمین پر نہیں گرتا بلکہ قوموں کے ضمیر میں انقلاب کی صورت اترتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف طاقت، وسائل یا ہتھیاروں سے نہیں بلکہ حق کی خاطر قربانی دینے والے افراد کے کردار سے سربلند ہوتی ہیں۔ شہید وہ نہیں جو صرف خون دے کر دنیا سے رخصت ہو جائے بلکہ وہ ہے جو اپنی قربانی کے ذریعے آنے والی نسلوں کو حق، آزادی اور عزت کے راستے سے آشنا کر دے۔